6/30/17

کتے کی تخلیق کیسے ہوئی دلچسپ تحقیق


مذاہب کی قدیم کتابوں کے مطابق ابلیس یعنی شیطان جن تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی عبادت کے باعث اسے فرشتوں میں شامل کر لیا بعدازاں اس کی ریاضت کا سلسلہ جاری رہا‘ اس کائنات کا کوئی ایسا چپہ‘ کوئی ایساٹکڑا نہیں تھا جس پر ابلیس نے سجدہ نہ کیا ہو‘ یہ ان سجدوں‘ ان ریاضتوں اور ان عبادتوں کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو فرشتوں کا سردار بنا دیا۔ لیکن پھر شیطان غرور کا شکار ہوگیا اور اس نے مٹی کے پتلے یعنی آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور یہاں سے خیر اور شر کی طاقتوں کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔

قدیم صحائف میں لکھا ہے کہ جب شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے حضرت آدم ؑ پر حقارت سے تھوک دیا تھا‘ شیطان کا تھوک حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر گرا تھا بعدازاں اللہ تعالیٰ نے حضر ت جبرائیل ؑ کو تھوک والی مٹی نکالنے کا حکم دیا‘ حضرت جبرائیل ؑ نے یہ مٹی نکالی تو حضرت آدم ؑ کے پیٹ پر ایک چھوٹا ساسوراخ بن گیا ‘ یہ سوراخ ناف کی شکل میں آج بھی ہمارے پیٹ پر موجود ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ناف کی مٹی سے بعدازاں کتا بنایا تھا‘کتے میں تین خصلتیں ہوتی ہیں‘ یہ انسان سے محبت کرتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ انسان کی مٹی سے بنا تھا‘ یہ رات کو جاگتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ کے ہاتھ لگے تھے اور یہ انسان پر بھونکتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ اس میں شیطان کا تھوک شامل ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کتا دنیا کی واحد مخلوق ہے جو شیطان کو دیکھ سکتی ہے‘ شائد یہی وجہ ہے رات کے اندھیرے میں جب شیطانوں کے قافلے آسمانوں سے اترتے ہیں توکتے اوپر دیکھ کر ایک خوفناک آواز نکالتے ہیں۔

6/15/17

قائد اعظم کے عجیب جوابات

قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے جنا ح کو کہا ’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے؟‘‘۔ جناح نے پراطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ
پریشان نہ ہوں I will fly to other table‘‘
جناح کے اس جواب پرپروفیسر کو بہت غصہ آیا اور اسنے انتقام کا فیصلہ کر لیا‘ اگلے ہی دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں اور ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’’دولت‘‘۔ جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ’’دانائی‘‘ والے بیگ کو اٹھاتا۔ جناح نے جواب دیا کہ ’’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘‘۔

اخلاص بڑی نعمت ہے

(دوبارہ )
لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے...
لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا...
میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا...
اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا...
ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں...
یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا... مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی...
سچ کہا ھے کہ اخلاص بہت بڑی نعمت ھے...!

6/3/17

پرہزگار باپ


ایک شخص تھا جس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی غیرعورت کی طرف نظر اٹھاکر نہیں دیکھاتھا،
ایک بار کچھ یوں ہوا کہ وہ شخص بہت ہی زیادہ تنگ دست ہوگیا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ گھر میں فاقے شروع ہوگئے.. اس شخص کی ایک جوان بیٹی بھی تھی، جب فاقے انتہا سے بڑھ گئے تو وہ لڑکی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی حالت دیکھ کر غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئی، دل میں ارادہ کرکے گھرسے نکلی کہ اپنا جسم بیچ کر کچھ کھانے کا سامان کرونگی..
وہ گھرسے نکل کر پوچھتے پوچھتے ایسے علاقے میں جا پہنچی جہاں پر جسم فروشی کی جاتی تھی، وہ لڑکی وہاں جاکر اپنی ادائیں دکھا کر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگی، لیکن کسی ایک شخص نے بھی اسکی طرف توجہ نہیں دی توجہ تو دور کسی نے اسکی طرف نظر تک اٹھا کرنہیں دیکھا، لوگ آتے اور اسکی طرف نظر اٹھائے بنا گزرجاتے.. خیر اسی طرح کھڑے کھڑے لڑکی کو شام ہوگئی، وہ کافی دلبرداشتہ ہوکر گھر کی جانب قدم بڑھانے لگ گئی..
جب گھر پہنچی تو اپنے باپ کو منتظر پایا، پریشانی میں مبتلا باپ نے پوچھا "بیٹی تو کہاں چلی گئی تھی؟؟؟
لڑکی نے باپ سے مافی مانگی اور رو رو کر سارا ماجرا بیان کیا کہ "ابو مجھ سے اپنے بھوک سے بلکتے ہوئے بہن بھائیوں کی حالت دیکھی نہیں گئی اور میں مجبور ہو کر گناہ کرنے نکل پڑی، لیکن کسی ایک بھی شخص نے بھی میری طرف نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھا...
سارا ماجرا سننے کے بعد باپ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ
"بیٹا تیرے باپ نے آج تک کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی تیری طرف نظر اٹھا کر دیکھے"
دوستو ہماری سوچ کے راستے بہت وسیع ہیں امید کرتیں ہیں یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ اس بارے میں ضرور سوچیں گے

پادری کے سوالات اور بایزید کے جوابات

حضرت با یزید بسطامیؒ اپنے زمانے کے کبار اولیاء کرام میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن خوبیوں سے نوازا تھا وہ کم ہی کسی کو نصیب ہوتی ہیں
ایک پادری کی بایزید بسطامی
سے سوالات

وہ دو بتاؤ جن کا تیسرا نہ ہو?
 وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو?
وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو?
وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو?
وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو?
وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو?
وہ نو جن کا دسواں نہ ہو?
وہ دس جن کا گیارہواں نہ ہو?
وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو۔?
وہ قوم بتاؤ جو جھوٹی ہو اور بہشت میں جائے?
وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے?
بتاؤ کہ تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے?
الْذارِیاتِ ذروًا کیا ہے?
اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے?
اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا ہے?
اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے?
وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور سانس لے?
 ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے ساتھ گفتگو کی?
اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو?
وہ پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو?
اور وہ چار جو نہ باپ کی پشت اور نہ شکم سے پیدا ہوئےمادر?
پہلا خون جو زمین پر بہایا گیا?
 وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور پھراس کو خرید لیا ہو?
وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا پسند فرمایاہو۔?
وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی عظمت بیان کی ہو
وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے?
 وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں?
کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں?
کون سے پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں?
کون سے جانور سب جانوروں سے افضل ہیں?
کون سے مہینے افضل ہیں?
کون سی راتیں افضل ہیں?
طَآمَّہ کیا ہے۔?
وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ
میں اور تین پھُول سایہ میں?
 وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو اور نہ اُس پر حج فرض ہو?
 کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے?
 وہ چار چیزیں بتاؤ جن کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہو?
 نقیر کیا ہے اور قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے۔?
ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے?
 گدھا ہینگتے وقت کیا کہتا ہے?
بیل ڈکارتے وقت کیا کہتا ہے?
گھوڑا ہنہناتے وقت کیا کہتا ہے?
اونٹ بلبلاتے وقت کیا کہتا ہے?
مور چہچہاتے وقت کیا کہتا ہے?
بلبل کوکتے وقت کیا کہتی ہے?
مینڈک ٹرٹراتے وقت کیا کہتا ہے?
جب ناقوس بجتا ہے تو کیا کہتا ہے?
 وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے?
 یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔?
تو حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا گواہ ہے۔پھر فرمایا کہ
تمہارا سوال کہ ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالےٰ واحد قہار ہے
اور وہ دو جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں لقولہ تعالیٰ ( سورة بنی اسرائیل آیت ۲۱)
اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہووہ عرش اور کرسی اور قلم ہیں اور
وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل ، زبور اورقرآن مقدس ہیں
اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایالقولہ تعالیٰ ( سورہ قاف، آیت ۸۳)
اور وہ سات جن کا اّٹھواں نہ ہووہ سات آسمان ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ ملک آیت ۳)
اور وہ آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اُٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ حآقّہ، آیت ۷۱)
اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل کے نو فسادی شخص تھے لقولہ تعالیٰ (سورة نمل، آیت ۸۴)
اوروہ د س جن کاگیارھواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ ہو لقولہٰ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت۶۹۱)
اور وہ گیارہ جن کا بارواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں۔ ان کا بارواں بھائی نہیں لقو لہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت ۴)
اوروہ بارہ جن کا تیرواں نہ ہووہ مہینوں کی گنتی ہے لقولہ تعالیٰ (سورہ توبہ، آیت ۶۳)
اور وہ تیرہ جن کا چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کا خواب ہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت۴)
اور وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائی گی وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں کہ اللہ تعالےٰ نے ان کی خطا معاف فرمادی ۔ لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف،آیت ۷۱)
اور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائی گی
وہ یہود و نصارےٰ کی قوم ہے لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت ۳۱۱) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے دین کو لاشی بتانے میں سچّا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیاور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائی گیگے
اور تم نے جو سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔
اور اَلزَّارِیَاتِ ذرْواً چار ہوائیں ہیں ۔ مشرقی ، غربی، جنوبی، شمالی۔ اوراَلْحَامِلَاتِ وِقْراً بادل ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ آیت ۴۶۱ )
اور اَلْجَا رِیَاتِ یُسْراً سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں اور
اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْراً وہ فرشتے ہیں جوپندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔
اور وہ چودہ جنہوں نے رَب تعالیٰ کے ساتھ گفتگوکی وہ سات آسمان اور سات زمینیں ہیں لقولہ تعالیٰ(سورة حٰم السّجدہ، آیت ۱۱) اور وہ قبرجو مقبور کو لے کر چلی ہو وہ یونس علیہ السّلام کو نگلنے والی مچھلی ہے۔ اور بغیر روح کے سانس لینے والی چیزصبح ہے لقولہ تعالیٰ
اور وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چار جو کسی باپ کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السّلام کی بجائے ذبح ہونے والا دنبہ اورصالح علیہ السلام کی اونٹنی اورآدم علیہ السلام اور حضرت حوّا ہیں ۔ اور پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے جسے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔
اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے لقولہ تعالیٰ (سورة توبہ، آیت ۱۱۱)
اوروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے لقولہ تعالیٰ (سورة لُقمان، آیت۹۱)
اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اُسے بُرا کہا ہو وہ عورتوں کا مکرہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت ۸۲) اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھاہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے لقولہ تعالیٰ (سورة طٰہٰ آیت ۷۱)
اور یہ سوال کہ کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُ م البشر حضرت حوّا اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت آسیہ اور حضرت مریم ہیں ۔ رَضی اللہ تعالیٰ عنہنَّ اجمعین۔ باقی رہا افضل دریا وہ سیحون ، جیجون ، دجلہ ، فرات اور نیل مصر ہیں ۔
او ر سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے اور سب جانوروں سے افضل گھوڑا ہے
اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ ، آیت ۵۸۱) اور سب راتوں میں افضل رات لیلةالقدر ہے لقولہ تعالیٰ (سورة قدر، آیت ۳) اور تم نے پوچھا ہے کہ طاْمہ کیا ہے وہ قیامت کا دن ہے۔ اور ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس پتّے ہیں اور ہر پتّہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں اور تین سایہ میں ۔ توہ وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں اور تیس پتّے ہر ماہ کے دن ہیں۔ اور ہر پتّے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ نمازیں ہیں دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور باقی تین
نمازیں اندھیرے میں۔ اور وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض نہ ہو پھر اس نے حج کیا ہو اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ السّلام کی کشتی ہے ۔
تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں اور باقی غیر رسول۔
تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہے حالانکہ جڑ ایک ہے۔وہ آنکھیں، ناک،منہ،کان ہیں۔ کہ مغزسر ان سب کی جڑ ہے۔ آنکھوں کا پانی نمکین ہے۔اور منہ کا پانی میٹھا ہے۔اور ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے
۔تم نے نقیر (سورة نسا آیت ۴۲۱) ،قطمیر ( سورة فاطر آیت ۳۱) ،فتیل (بنی اسرائیل آیت ۱۷)۔ سبدولبد، طمّ ورَمّ کے معانی دریافت کیے ہیں۔کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا ہے اس کونقیر کہتے ہیں اور گٹھلی پرجو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر کہتے ہیں اور گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتی ہے اسے فتیل کہتے ہیں۔سبدولبدبھیڑبکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طمّ ورَمّ کہا جاتا ہے۔
اور گدھا ہینگتے وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے لَعَنَ اللّٰہ ُالْعَشَّار۔ اور کتا بھونکتے وقت کہتا ہے وَیْلُ لِاَھِلِ اْلنَّارِمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ۔ اور بیل کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ۔ اور گھوڑا کہتا ہے سُبْحَانَ حَافِظِیْ اِذَا اَلتَقَت الْاَبْطَال َوَاشْتَعَلَتِ الرِّجَالُ بِالرِّجَال اور اونٹ کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہ ُ وَکَفٰی بِاللٰہِ وَکِیْلاَ اور مور کہتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسّتَوٰی (سورہ طٰہٰ آیت ۵۱) ۔ اور بلبل کہتا ہے سُبْحَا نَ ا للّٰہ ِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (سورة روم آیت ۷۱)۔ اورمینڈک اپنی تسبیح میں کہتا ہیسُبْحَانَ الْمَعْبُودِ فِیْ البَرَارِیْ وَالْقِفَارِ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ ( سورة نحل آیت ۸۶) اور ناقوس جب بجتا ہے تو کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ حَقَّا حَقَّا اُنْظُرْ یَاْبنَ اٰدَمَ فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا غَرْبًا وَّشَرْقًا مَّاتَرٰی فِیْھَا اَحَدًایَّبْقٰی۔
اور تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة نحل آیت ۸۶) تم نے پوچھا ہے کہ جب رات ہو تی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے جب دن ہوتا ہے تورات اللہ تعالیٰ کے غا مض علم میں چلی جاتی ہے ۔ اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں ۔
پھر آپ نے فرمایا کہ
تمہارا کوئی ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا نہیں ۔ سب سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں تو آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ ہے کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے۔
تو وہ پادری سر بگر یباں ہوکر خاموش ہو گیا تو سب پادری اس سے کہنے لگے کہ اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے جواب دیئے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے
وہ بولا کہ جواب مجھے آتا ہے۔ اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو گے۔ سب نے بیک زباں کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ۔ ہم ہر حالت میں آپ کی موافقت کریں گے۔
تو بڑے پادری نے کہا
آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَّمدُ رَّسُولُ اللہ ہے ۔ تو سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ ڈالے