ٹیوب ویل کے گرد گاؤں کی کچھ عورتیں کپڑے دھو رہی تھیں۔ ایک عورت نے دوسری سے پوچھا "آج کیا کھایا؟"
اُس نے جواب دیا،
"کوئی ایک مہینہ پہلے کھیر کی دیگ اتاری تھی۔ اس دن سے روزانہ کھیر ہی کھا رہی ہوں"
ایک عورت کے کان میں یہ بات پڑی تو اس نے سوچا میں بھی ایسا ہی کرتی ہوں۔ کھیر ویسے بھی اس کی پسندیدہ ڈش تھی۔ چنانچہ اس نے گھر پہنچتے ہی کھیر کی دیگ اتارنے کا پروگرام بنایا۔ وہ کھیر کی دیگ سب سے چھپ کر مہینہ بھر اکیلی کھانا چاہتی تھی۔ لہذٰا اس نے دیگ پکا کر "تُوڑی" والے کمرے میں چھپا دی۔ پہلے دن کھیر کھائی۔ اور دوسرے دن بھی، مگر تیسرے دن اس میں سے بُو آنے لگی۔ مجبوراً بھری دیگ ضائع کرنا پڑی۔۔۔ اگلے دن جب وہ ٹیوب ویل پر پہنچی۔ تو کپڑے دھوتے ہوئے کسی عورت نے اُسی عورت سے پوچھا، کہ آج کیا کھایا؟
تو اس نے وہی جواب دیا۔۔ "ایک ماہ سے روزانہ کھیر کھارہی ہوں"
وہ اس کے پاس گئی اور حیرانی سے کہنے لگی " بہن میں نے تو دو دن کھائی۔ تیسرے دن اتنی شدید بدبو آنے لگی کہ مجبوراً ضائع کرنا پڑی۔۔۔ تمہاری ہمت ہے۔ جو ایک ماہ سے کھائے جا رہی ہو"
وہ عورت اس کی بات سن کر ہنس پڑی۔۔ کہنے لگی،
"میں نے ایک ماہ پہلے کھیر کی دیگ اتروا محلے کے ہر گھر میں بانٹ دی تھی۔۔۔ اس کے بعد سے روزانہ جس کسی گھر میں کھیر پکتی ہے۔ وہ میرے گھر بھی بھجوادیتا یے۔ اس طرح میں ہر روز کھیر کھاتی ہوں"
دوسروں کے خوشی غم میں شریک ہوں۔ راہ چلتے لوگوں کو سلام کریں۔ عزیز و اقارب کے لیے خاص وقت نکالیں۔ محفلوں اور دعوتوں کا رواج عام کریں۔ معاشرے کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یقین کریں آپ کے "فیلنگ سیڈ" پر ہر کوئی فکرمند دکھائی دے گا۔ راہ چلتے ہوئے پلٹ کر نجانے کتنے سلام آنے لگیں گے۔ خوشی غمی میں خود کو تنہا نہیں پائیں گے۔ مشکل مواقع پر عزیز و اقارب اپنی جمع پونجی میں سے بالکل اسی طرح آپ پر خرچ کریں گے۔ جیسا کہ آپ نے کیا ہوگا۔ آپ کو ہر محفل میں ہر دعوت پر مدعو کیا جائے گا۔۔۔
7/20/17
میں تو ایک مہینے سے کھیر کھاتی ہوں
7/16/17
دنیا کے پراسرار مقامات
برمودا ٹرائینگل جیسے نو مقامات
برمودہ ٹرائینگل کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ پراسرار مقامات میں کیا جاتا ہے اور کتابوں میں سب سے زیادہ ذکر بھی اسی کے بارے میں ملتا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے دنیا کے دیگر پراسرار مقامات کے بارے میں کم ہی بات کی جاتی ہے- آج ہم آپ کو دنیا کے دیگر پراسرار مقامات کے بارے میں بتائیں گے-
1-Area 51
ایریا 51 نویڈا میں واقع ہے اور یہ ایک امریکی فوجی اڈہ ہے جو کہ لاس ویگاس کے شمال میں 80 میل کے فاصلے پر واقع ہے- ایک طویل مدت سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ جہاں نیو میکسیکو کے اڑن طشتری کے کریش کے حادثے میں پائے جانے والے خلائی مخلوق کے اجسام لائے گئے تھے- آج بھی کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اس جگہ پر عجیب و غریب روشنیاں دیکھی ہیں- اس ملٹری اڈے کے ارد گرد گارڈز گھومتے رہتے ہیں اور انہیں نزدیک آنے والے کسی بھی شخص کو گولی مارنے کا حکم ہے-
2-Lost City of Atlantis
اٹلانٹس کا گمشدہ شہر واقعی ایک پراسرار شہر ہے جس کے بارے میں کسی کو خبر نہیں کہ وہ کہاں ہے؟ اس افسانوی شہر کا ذکر افلاطون کی تحریروں میں ملتا ہے جو کہ 360 قبل مسیح میں لکھی گئیں- اور آج تک اس کی تلاش جاری ہے- افلاطون کے مطابق یہ ایک نیک معاشرہ تھا اور یہاں کے لوگ اپنی اسی خوبی کے ذریعے دوسرے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے تھے-
3-The Devil’s Sea
اس سرزمین پر صرف برمودا ٹرائینگل ہی ایک پراسرار علاقہ نہیں بلکہ جاپان میں موجود Devil’s Sea بھی برمودا سے ہی مشابہت رکھتا ہے- اس جگہ پر بھی غائب ہونے٬ مقناطیسی بے ضابطگیاں اور عجیب و غریب روشنیوں کے معاملات رپورٹ کیے گئے ہیں- جاپانی حکومت نے اس مقام کی تحقیقات کے لیے 1952 میں ایک بحری جہاز the Kaio روانہ کیا تو یہ جہاز بھی غائب ہوگیا-
4-Mystery Spot
یہ کیلفورنیا کے علاقے سانٹا کروز کا ایک ایسا پراسرار مقام ہے جو طبعیات کے قوانین کی سراسر نفی کرتا دکھائی دیتا ہے- یہاں آپ کے ساتھ بہت سی عجیب و غریب چیزیں ہوتی ہیں جیسے کہ پانی اوپر کی جانب بہتا ہے٬ یا پھر لوگ سیدھے کھڑے ہوتے ہیں لیکن ظاہر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے وہ ترچھے کھڑے ہوں- ہوسکتا ہے یہ نظروں کا دھوکا بھی ہو لیکن اگر آپ ایک مرتبہ یہاں چلے گئے تو اس جگہ کو بھلانا آپ کے لیے انتہائی مشکل ہوگا-
5-Lake Anjikuni
اس جھیل کا شمار بھی دنیا کے پراسرار مقامات میں کیا جاتا ہے- یہاں گمشدگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا- کینیڈا میں واقع اس جھیل کے کنارے 2000 افراد پر مشتمل پورا ایک گاؤں آباد تھا- نومبر 1930 میں نہ جانے کیا واقعہ پیش آیا کہ یہاں کے تمام افراد اچانک غائب ہوگئے جبکہ ان کی خوراک٬ ساز و سامان اور ہتھیار سب اپنی جگہ موجود تھے- جب یہاں کھدائی کی گئی تو 7 کتوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جو کہ بھوک سے مرگئے تھے جبکہ گاؤں میں کھانے کی ایک کثیر مقدار موجود تھی اور انسانوں کی غیرموجودگی میں یہ کتے آسانی کھانا کھا سکتے تھے- آج تک کوئی نہیں جانتا کہ اس گاؤں کے رہائشیوں کے ساتھ کیا ہوا-
6-Superstition Mountains
یہ پراسرار پہاڑ ایریزونا کے علاقے Phoenix کے مشرق میں واقع ہیں- ان پراسرار پہاڑوں کی تاریخ 18 ویں صدی سے اس وقت سے جاملتی جب یہ فرض کیا گیا ہے ایک جیکب والٹز نامی شخص نے ان پہاڑیوں میں سونے کی کان دریافت کی لیکن اس شخص نے اس کان کا محل وقوع کو اپنی موت تک راز رکھا- ان پہاڑوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شکاری پہاڑ ہیں اور جو بھی یہاں سونا تلاش کرنے جاتا ہے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے- وہاں کے مقامی افراد انہیں جہنم کا دروازہ کہتے ہیں-
7-Brown Mountain Lights
یہ پہاڑ نارتھ کیرولینا میں واقع ہے اور 1913 کے آغاز میں اس پہاڑ پر اس کے نزدیک کچھ پراسرار روشنیاں دیکھی گئیں- ان روشنیوں کی تفصیلات کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ بظاہر ان روشنیوں کا کوئی پیٹرن نہیں تھا اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ابتدا کہاں سے ہوئی- یہ روشنیاں بہت مقبول ہوئیں-
8-Bigelow Ranch
یہ مقام اتھا میں 480 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور انتہائی عجیب و غریب مقام ہے- یہاں 1950 میں بہت سے عجیب واقعات پیش آئے جس میں اڑن طشتری کا دکھنا اور جانوروں کے اعضا کا کٹنا شامل ہے- 1994 میں اس وقت ان واقعات میں تیزی آگئی جب اس جگہ دو افراد نے خریدا- ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہاں اڑن طشتریاں دیکھی ہیں اس کے علاوہ بھی ان لوگوں نے یہاں کئی عجیب و غریب واقعات دیکھے-
9-Michigan Triangle
یہ ایک بہت بڑی جھیل ہے جس کا اپنا ایک پراسرار ٹرائینگل ہے اور اس کی زد میں آنے والی ہر چیز غائب ہوجاتی ہے چاہے وہ پانی میں ہو یا ہوا میں- سب سے مشہور واقعہ جو یہاں پیش آیا وہ ایک کمرشل فلائٹ کا تھا- یہ فلائٹ 1950 میں اس مقام سے گزری اور اس جہاز میں 58 مسافر سوار تھے- لیکن اس کے بعد اس جہاز کو کبھی دوبارہ نہیں دیکھا
جاسکا۔
Story END
7/9/17
یہ جو پردیس میں ہوتے ہے نا
#یہ_جو_پردیس_میں_آپ_کے_بهائی_ہیں_نا ۔۔۔!!!
یہ اکثر صبح ناشتہ بهی نہیں کرتے کہ کہیں گاڑی ہی چهوٹ نہ جائے
ناشتہ نظر انداز کرکے کہتے ہیں " کام کی جگہ پہ پہنچ کر کچھ کها لیں گے"
جب کام کی جگہ پہ پہنچ جاتے ہیں تو کام کے دباو کی وجہ سے ناشتہ کرنا پهر بهول جاتے ہیں۔
سوچتے ہیں چلو دوپہر لنچ ٹائم ہی کچھ کهالیں گے۔۔۔
لنچ ٹائم میں بهی اکثر یہ بچارے پردیسی مزدور بهوکے رہ جاتے ہیں کہ اکثر کام کے لوڈ کی وجہ سے اوور ٹائم کا لالچ بیچ میں آجاتا ہے کہ اس بار چلو گهر کچھ ہزار زیادہ چلے جائے گے۔
گهر کے معاملات اور خوش اسلوبی سے طے پالے گے۔
بریک کے ٹایم یہ مزدور جن پہ آپکو ناز ہوتا ہے کہ وہ دبئی، شارجہ، بحرین,سعودیہ، قطر، کویت دنیا کے کسی کونے میں ہی کیوں نہ ہو جن پہ آپکو فخر ہوتا ہے کہ میرا بهائی تو بیرون ملک ہوتا ہے،
بریک ٹائم یہ کوئی کارٹن کا پیس اٹها کر کوئی پلاسٹ کچہرے کے ڈیر سے اٹها کر اسکو جهاڑ کر وہی بچهاتے ہوئے سو جاتے ہیں۔
کچہرے کے ڈیر میں پڑا گندہ بدبودار پلاسٹ یا کارٹن کا پیس
جی ہاں ۔۔۔!!!
وہ خود گهتوں پہ سوتے ہیں اور آپ کو گدوں پہ سلاتے ہیں۔
صبح 5 بجے سے لیکر رات شام 7 بجے تک مسلسل خون و پسینے کا ایک ایک قطرہ بہایا جاتا ہے ریال, درہم, دینار کے لئے
جلا دینے والی گرمی دماغ کو ابال کر رکھ دیتی ہے۔ پینے کو گرم پانی،
گرم ترین ہوا جیسے کہ تندور سے اٹهی ہو،
صحراوں میں گرد و غبار کے خوفناک ترین طوفان،
58ویں چھت کے سکفولڈنگ پہ کهڑے زندگی اور موت کی یہ جنگ صرف دینار اور آپکی خوشیوں کے لئے پردیس میں ہر دن ہر صبح ہر وقت ہر سیکنڈ لڑی جاتی ہے۔
پردیس میں ایک پردیسی پہ کیا گزرتی ہے آپ اسکا اندازہ بهی نہیں لگا سکتے۔
نہایت طاقتور جسمانی وجود کے مالک کو ایک معمولی دبلا پتلا انسان بنا کسی بات کے سو سو باتیں سنا دیتا ہے۔
پردیس میں رہنے والا کوئی ایک ایسا مزدور نہیں جو کسی فکر کسی غم کسی پریشانی سے آزاد ہو۔
کبھی اقامے کی فکر،
کبھی کفالے کی بهاگ دوڑ،
کبھی کفیل کی ٹینشن،
کبھی جوازات کے مسائل،
کبھی کمپنی کی مصیبتیں،
کبھی تبادلے کی تشویشیں،
کبھی تنخواہ وقت پہ نہ آنا،
کبھی کام ہونے نہ ہونے کی تکالیف،
کبھی سالن نہ بنانے پہ لڑائی جهگڑے،
کبھی روم رینٹ کی فکر،
کبھی روم سے نکالنے کی دهمکیاں اور کبھی آپ سب کی فرمائیشیں۔۔۔!!!
یہ جو پردیسی ہیں نا۔۔۔!!!
یہ ایک ایک حلالہ (سعودی, بخرینی, قطری, کویتی, دوبئ پیسہ) بچاتے ہیں۔
انکا بہت من کرتا ہے کہ کچھ اچها سا کها لے کچھ اچها سا پی لے۔
بے حد من کرتا ہے کہ کبھی KFC برگر کنگ البیک کباب کهائے یا ریڈ بل پی لے،
لیکن
گهر کا خیال آتے ہی جیب اجازت نہیں دیتا،
تو یہ بیچارے واپس ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے ایک ایک روپے بچا کر اپنے لئے بهی کچھ بچت کی ہوتی ہے کہ زندگی کا کیا بهروسہ۔۔۔۔
یہ سارا وقت اسی بچت کو دیکھ کر مزدوری کرتے ہیں کہ چلو اس ماہ گهر بهیجنے اور خرچہ نکال کر میرے پاس چالیس پچاس روپے بچ رہے ہیں۔
یہ اسی کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
ایک ایک روپے جوڑ کر جب کچھ آس بن جاتا ہے تو پاکستان آنے کی تیاری کرتے ہیں۔
ٹکٹ کی معلومات کرتے ہیں ہیڈا آفس بات کرتے ہیں۔
پتہ چل جاتا ہے کہ صاحب کی چهٹی برابر ہونے والی ہے،
پهر وہ اپنا پروگرام بناتا ہے کہ کب جانا ہے
کہ
کہ اچانک گهر سے کسی فرمائش آجاتی ہے کہ اسکو فلاں کام کے لئے اتنے پیسے چاہیے
تب ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف گهر والوں کی خواہشات،
کس کو منتخب کرے۔
تب وہ سوچتا ہے کہ چلو کوئی مسئلہ نہیں میں ایک سال اور لگا دیتا ہوں۔
" اچها جی میں پیسے بهیج دوں گا" ایک سال کی ہی تو بات ہے میں اگلے سال واپس آجاتا ہوں چهٹی پہ..."
اور وہ اپنی وہی بچت شام کو گهر روانہ کردیتا ہے۔
یہ جو پردیسی ہوتے ہیں نا۔۔۔!!!
یہ آپکے لئے روز موت کا سامنا کرتے ہیں،
پل پل جی کر مرتے ہیں۔
اکثر رات کو کمبل میں رو بهی لیتے ہیں۔
کہ دکھ درد کس کو سنائے۔
یہی سوچ کر
کہ چلو میں تکلیف ہوں پیچهے گهر والے تو سکهی ہیں نا میری وجہ سے،
اپنے پردیسوں کو بے جا فرمائیشیں کرکے تنگ نہ کریں۔
ان کے اعصاب پہلے ہی پریشانیوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔
ان سے کوئی شے مانگنی ہو بے حد قیمتی شے کی ڈیمانڈ بلکل نہ کریں۔
ایک گیلکسی سیون ایج کی قیمت ایک مزدور کی تین ماہ کی تنخواہ ہے۔
یہ تین ماہ کی تنخواہ وہ سورج کے سامنے کهڑے ہوکر اپنا چمڑا اور خون جلا کر وصول کرتے ہیں۔
آپ کی ایسی فضول کی فرمائیشیں انکو مزید پریشان کردیتی ہیں،
ان کو مزید سوچوں میں ڈال دیتی ہیں۔
اور آپکو بخرین دبی، قطر، سعودیہ میں سورج کے تپش کی طاقت کا اندازہ نہیں،
وہ انسان کو کوئلہ بنا دیتی ہے۔
#Respect
#Our
#Brothers
#Fathers
#Sons
7/8/17
دین کی قیمت
ﺍﯾﮏ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﯾﻦ ﺑﮍﺍ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺟﻮﺗﺎ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﻮﭼﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﺮﺩﻭ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻣﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔
ﻣﻮﭼﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺭﮐﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ۔
ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﺗﻮﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﻮﭼﯽ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﮯ ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺮﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ۔ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳُﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ :
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺗﮭﮯ : ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ : ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺗﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﻨﮉﯼ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ۔
ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﻣﻮﺗﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﻨﮉﯼ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺰﯼ ﻓﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺅ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﯿﻤﻮﮞ ﺍُﭨﮭﺎ ﻟﻮ۔ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﯿﻠﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﻭ ﯾﺎ ﺗﯿﻦ ﻟﯿﻤﻮﮞ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳُﻨﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ۔ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﮨﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻮﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺳُﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺑﭽﮯ ! ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﻋﻠﻢ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺎﮨﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔
7/3/17
لالچی شاگرد
حضرت عیسیٰؑ اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے،راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟
اس نے کہا:میرے پاس دو درہم ہیں۔
حضرت عیسیؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:یہ تین درہم ہوجائیں گے،قریب ہی آبادی ہے ،تم وہاں سے تین درہموں کی روٹیاں لے آئو۔
وہ گیا اور تین روٹیاں لیں،راستے میں سوچنے لگا کہ حضرت عیسیٰؑ نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے جبکہ روٹیاں تین ہیں،ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰؑ کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی،لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھال لوں،چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھالی اور دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰؑ کے پاس پہنچا۔
آپ نے ایک روٹی کھالی اور اس سے پوچھا:تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟
اس نے کہا:دو روٹیاں ملی تھیں،ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔
حضرت عیسیٰؑ وہاں سے روانہ ہوئے،راستے میں ایک دریا آیا،شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا:اے اللہ کے نبی!ہم دریا عبور کیسے کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی؟
حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:گھبرائو مت،میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ کر میرے پیچھے چلتے آئو،خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کرلیں گے۔
چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا،خدا کے اذن سے آپ نے دریا کو اس طرح پار کر لیا کہ آپ کے پائوں بھی گیلے نہ ہوئے۔
شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا:میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان!آپ جیسا صاحب اعجاز
نبی تو پہلے مبعوث ہی نہیں ہوا۔
آپ نے فرمایا:یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟
اس نے کہا:جی ہاں!میرا دل نور سے بھر گیا،پھر آپ نے فرمایا:اگر تمہارا دل نورانی ہوچکا ہے تو بتائو روٹیاں کتنی تھیں؟
اس نے کہا :حضرت روٹیاں بس دو ہی تھیں۔
پھر آپ وہاں سے چلے،راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا،آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا ،وہ آپ کے پاس چلا آیا،آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا:’’‘‘ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا۔
ہرن زندہ ہوگیا اور چوکڑیاں بھرتا ہوا دوسرے ہرنوں سے جا ملا۔
شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہوگیا او رکہنے لگا:اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور معلم عنایت فرمایا ہے۔
حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میںکچھ اضافہ ہوا؟
شاگرد نے کہا:اے اللہ کے نبی!میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہو چکا ہے۔
آپ نے فرمایا:پھر بتائو کہ روٹیاں کتنی تھیں؟
شاگرد نے کہا :حضرت روٹیاں دو ہی تھیں۔
دونوں راستہ چلے گئے،ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی تھیں ،
آپ نے فرمایا:ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی۔
یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا:حضرت تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی۔
حضرت عیسی نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا:تینوں اینٹیں تم لے جائو، یہ کہہ کر حضرت عیسی وہاں سے روانہ ہوگئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے قریب بیٹھ کر سوچنے لگا کہ انہیں کیسے گھر لے جائے۔
اسی دوران تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا،ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں،انہوں نے اسے قتل کردیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں،لہٰذا ہر شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آتی ہے،اتفاق سے وہ بھوکے تھے،انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دئیے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لے آئو،اس کےبعد ہم اپنا اپنا حصہ اٹھالیں گے،وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں ساتھ مرجائیں گےاور تینوں اینٹیں میری ہوجائیں گی،ادھر اس کے دونوں ساتھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے اس ساتھی کو قتل کردیں تو ہمارے میں حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی۔
جب ان کا تیسرا ساتھ زہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو ان دونوں نے منصوبہ کے مطابق اس پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا،پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مرگئے،واپسی پر حضرت عیسیٰؑ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی
رکھی ہیں جبکہ ان کے پاس چار لاشیں بھی پڑی ہیں،آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر ی اور فرمایا:’’‘‘دنیا اپنی چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔
(انوار نعمانیہ ص۳۵۳)