6/15/17

قائد اعظم کے عجیب جوابات

قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے جنا ح کو کہا ’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے؟‘‘۔ جناح نے پراطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ
پریشان نہ ہوں I will fly to other table‘‘
جناح کے اس جواب پرپروفیسر کو بہت غصہ آیا اور اسنے انتقام کا فیصلہ کر لیا‘ اگلے ہی دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں اور ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’’دولت‘‘۔ جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ’’دانائی‘‘ والے بیگ کو اٹھاتا۔ جناح نے جواب دیا کہ ’’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘‘۔

اخلاص بڑی نعمت ہے

(دوبارہ )
لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے...
لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا...
میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا...
اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا...
ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں...
یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا... مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی...
سچ کہا ھے کہ اخلاص بہت بڑی نعمت ھے...!